اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی سکیورٹی تجزیہ کار آلون مزراحی نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں ایران اور امریکی افواج کے درمیان جاری محاذ آرائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ویتنام کی جنگ کے بعد کسی فوج نے امریکہ کو ایران کی مسلح افواج کی طرح مؤثر اور انتہائی درست حملوں سے نشانہ نہیں بنایا۔
انہوں نے لکھا: "ویتنام کے بہادر ویت کانگ کے علاوہ تاریخ میں کسی فوج نے امریکی افواج کو اتنی مہارت اور درستگی کے ساتھ نشانہ نہیں بنایا جتنا ایران کی مسلح افواج نے بنایا ہے۔"
مزراحی نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوج حقیقی اور پیشہ ور فوج کے ساتھ جنگ کا تجربہ نہیں رکھتی اور اب اسے ایک ایسی فوج کا سامنا ہے جو اسے مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس محاذ آرائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد شدید نفسیاتی دباؤ اور ذہنی بحران کا شکار ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو خطے میں موجود امریکہ کے تمام فوجی اڈوں اور تنصیبات کی مکمل معلومات حاصل ہیں، ہر اڈا اس کی نگرانی میں ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
مزراحی کے مطابق، ایران کا طرزِ جنگ جدید عسکری ٹیکنالوجی اور مضبوط نظریاتی و مقامی عسکری جذبے کا امتزاج ہے، جس نے میدانِ جنگ میں غیر معمولی برتری پیدا کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی مکمل عسکری طاقت استعمال نہیں کی بلکہ اب تک صرف اپنی صلاحیتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ بروئے کار لایا ہے، جبکہ کشیدگی میں اضافے کے لیے اس کے پاس اب بھی متعدد مراحل باقی ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر آلون مزراحی نے اس جنگ کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی پر سوویت ریڈ آرمی کی فتح کے بعد کی "سب سے عظیم اور تاریخی جنگ" قرار دیا۔
دوسری جانب، گزشتہ ہفتے امریکہ نے ایران کے خلاف حملے جاری رکھتے ہوئے ایرانی سرزمین پر مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں پلوں، بجلی گھروں اور پانی صاف کرنے کی تنصیبات سمیت غیر فوجی بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ان حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی اہداف پر جوابی کارروائیاں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واشنگٹن کو مزید سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔
آپ کا تبصرہ